Thursday, May 14, 2020

اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف کی توقع نہیں ہے : ڈاکٹر عبد القدیرخان

پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان  پاکستان کی عدالتوں   سے مایوس ! انصاف کے لیے ترس گئے  



پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں سے متعلق  سپریم کورٹ کو تحریر کردہ خط میں کہا ہے کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو غیرقانونی طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی ایران ،  لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے اعترافِ جرم کے بعد سابق  صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔
 صدر مشرف کی حکومت کے بعد ملک میں دو جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل کر چکی ہیں اور اس عرصے کے دوران بھی ڈاکٹر عبدالقدیر کی نقل و حرکت بہت محدود ہی رہی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو ڈاکٹر عبد القدیر کی نقل و حرکت سے متعلق درخواست کی سماعت شروع کی تو بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکلا سے استفسار کیا کہ کیا بدھ کو ان کی اپنے موکل یعنی عبدالقدیر خان سے ملاقات ہوئی ہے جس پر وکلا کا کہنا تھا کہ اُن کی ملاقات اپنے موکل سے ہوگئی ہے اور اُنھوں نے اس سے متعلق عدالت کو خط لکھا ہے جو عدالت میں پیش کر دیا  ہے۔
اس خط میں لکھا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے مقدمے کی سماعت کے دوران زبردستی دستخط کروائے گئے  ہیں لہٰذا  ایسے حالات میں انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بدھ کے دن جب اُنھیں عدالت لایا گیا تو سکیورٹی اہلکار پہلے تو دو گھنٹے اُنہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر گھماتے رہے اور پھر اُنھیں عدالت میں پیش کرنے کی بجائے رجسٹرار آفس میں بٹھایا گیا جو کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
مزید یہ کہ ڈاکٹر عبد القدیر نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ " ان پر درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ہے اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں قید میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے"۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بطور جج وہ یہ بات برداشت نہیں کرسکتے کہ کسی ہائی کورٹ کی عزت میں کمی آئے۔ اُنھوں نے کہا کہ " سائل چاہے کتنا بھی معزز کیوں نہ ہو ہائی کورٹ کی عزت وتکریم میں کمی نہیں آنے دیں گے"۔
بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 
 "ایک ہائی کورٹ سے حکم لے کر دوسری ہائی کورٹ جانے کی روایت قائم نہیں ہونے دی جائے گی"۔
سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے ڈاکٹر قدیر کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تین راستے ہیں نمبر ایک یہ کہ آپ اس درخواست پر بحث کریں،، دوسرا یہ کہ اس درخواست کو آئین کے ارٹیکل 184/3 کے تحت دائر کریں اور تیسرا راستہ  یہ ہے کہ وہ یہ درخواست واپس لے لیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر  اے کیو خان نے گذشتہ برس اکتوبر میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اُنھوں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی تھی کہ اُنھیں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں اُنھوں نے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے تھے جنھوں نے بقول ان کے ان کی نقل و حرکت کو صرف ایک گھر تک محدود کر دیا تھا۔
اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان احکامات کے ساتھ یہ درخواست نمٹا دی تھی کہ اس کی سماعت ان کے دائرہ کار میں نہیں لہٰذا درخواست گزار دادرسی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ' اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کی رضامندی سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کیا'۔
اُنھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں درخواست کیوں دائر کی گئی جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست غیر معمولی حالات میں دائر کی گئی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عبد القدیر خان کے خط میں لکھے گئے الفاظ پر اعتراض اُٹھایا ۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ منیں جمع کروائے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس خط کو قبول نہ کیا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنھیں خط کے متن پر اعتراض ہے تو وہ اس بارے میں درخواست دائر کرسکتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کو تنبیہ کی ہے کہ وہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لیں۔
اب اس درخواست کی سماعت عیدالفطر کے بعد ہوگی
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نقل و حرکت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ' ڈاکٹر عبدالقدیر سے ان کے وکلا کی ملاقات کے دوران سکیورٹی اداروں اور اٹارنی جنرل آفس کا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں ہو گا '۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ کچھ دیر میں وکیل صاحب کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کروا دیتے ہیں جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل نے جواب دیا کہ " ان کے مؤکل کیسے آزاد شہری ہیں کہ ان سے ملاقات کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے"۔
عدالتی حکم پر عبد القدیر خان کو سخت سکیورٹی میں ججز گیٹ کے ذریعے سپریم کورٹ لایا گیا اور اُنھیں عدالت میں پیش کرنے کی بجائے رجسٹرار آفس میں بٹھایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نقل و حرکت سے متعلق درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم ایک مذہبی جماعت کے فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی بھی سربراہی کر چکے ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے اپنے فیصلے میں حکومت سے ان فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی تھی۔
اس بینچ کے دوسرے رکن جسٹس یحیٰ آفریدی سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے تین رکنی خصوصی بینچ میں شامل تھے تاہم اُنھوں نے بعض وجوہات کی بنا پر اس بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی۔

No comments:

Post a Comment