Wednesday, May 6, 2020

امریکہ کا چین پر الزام ، وائرس ووہان کی لیب سے پھیلایا گیا۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا جواب۔

 

چین کے سرکاری میڈیا  نے امریکہ کے  وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مائیک پومپیو نے  کہا تھا کہ اس حوالے سے واضح ثبوت موجود ہیں کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیباٹری سے شروع ہوا۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ دعویٰ گزشتہ اتوار کو کیا تھا لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔
چین کے سرکاری اخبار " گلوبل ٹائمز" نے اپنے اداریے میں مائیک پومپیو کے لیے انگریزی کا جو لفظ استعمال کیا اردو میں اس کا معنی غیر اخلاقی شخص لیا جا سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ صرف قیاس پر مبنی ہے اور اس نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھیں ہیں۔
چینی ذرائع ابلاغ  نے کیا کہا ؟؟؟
عام طور پر چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے اداریے سے چینی حکومت کی سوچ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
لیکن اب تک امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر چین نے سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ پیر کو  " گلوبل ٹائمز" نے مائیک پومپیو کو مضحکہ خیز نظریات اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا اور مائیک پومپیو کے خلاف الزامات کا یہ سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا۔ 
امریکی وزیر خارجہ نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی آن سنڈے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وائرس کے ’ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی‘ سے شروع ہونے کے بہت زیادہ شواہد موجود ہیں۔
مائیک پومپیو نے کہا کہ دنیا میں جراثیم پھیلانے کی چین کی ایک تاریخ رہی ہے اور وہ ہمیشہ سے ہی ناقص لیبارٹریاں چالاتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ' گلوبل ٹائمز ' کے اداریے میں لکھا گیا کہ " مائیک پومپیو جھوٹ بول کر ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو کامیاب کرانا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ سوشلسٹ چین سے نفرت کرتے ہیں اور خاص طور پر اس کو ترقی کرتے  ہوئے برداش نہیں کر سکتے"۔


   




No comments:

Post a Comment